28 فروری 2015 - 05:15
مشرقی یوکرین سے بھاری ہتھیاروں کا انخلا

یورپ کی سلامتی اور تعاون کی تنظیم کی مداخلت کےبعد یوکرین کی فوج نےلڑائی والےمشرقی علاقوں سےاپنے بھاری ہتھیار ہٹانا شروع کردیئے ہیں.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق یورپ کی سلامتی اور تعاون کی تنظیم کی مداخلت کےبعد یوکرین کی فوج نےلڑائی والےمشرقی علاقوں سےاپنے بھاری ہتھیار ہٹانا شروع کردیئے ہیں۔حکومت یوکرین کےایک مخالف رہنمانےکہاہےکہ یورپ کی سلامتی اورتعاون کی تنظیم کےمبصرین، مشرقی یوکرین سے ہتھیاروں کے ہٹائے جانے پر نگرانی کے مقصد سے “یلنووکا” میں داخل ہوگئے ہیں
یوکرینی حکومت کے اس مخالف رہنما کے بقول لڑائی والے علاقوں سے اورال بکتر بند گاڑیوں اور مارٹر گولے داغے جانے والی گاڑیوں کو ہٹایا جارہا ہے ۔ یورپ کی سلامتی و تعاون کی تنظیم نے اس سے قبل مخالفین کے بھاری ہتھیاروں کے جنگي علاقوں سے پیچھے ہٹائے جانے کی تصدیق کردی تھی۔ در ایں اثنا یوکرینی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کی ایف حکومت اپنے لئے اس حق کو محفوظ سمجھتی ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کےمنافی کسی بھی اقدام کے مشاہدے کی صورت میں وہ اپنے فوجی ساز وسامان پیچھے ہٹانے کے پروگرام کو روک دے ۔ یوکرین کی حکومت اور مخالفین نے بارہ فروری کو بیلاروس کے دارالحکومت مینسک میں روس، جرمنی یوکرین اور فرانس کے سربراہوں کی موجودگی میں جنگ بندی کے ایک سمجھوتے پر دستخط کئے تھے۔ اس سمجھوتے کی شقوں میں سے ایک شق میں لڑائی والے علاقوں سے بھاری ہتھیاروں کو ہٹانا شامل ہے۔ یوکرین کی حکومت اس سے قبل تک، مخالفین کی جانب سے حملے جاری رہنے کے خوف سے اپنے بھاری ہتھیار نہيں ہٹا رہی تھی-
کی ایف نے مینسک سمجھوتے پر دستخط کے بعد بھی، جنگی علاقوں میں اقوام متحدہ کی امن محافظ فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا تھا تاہم اس کا کوئی مثبت جواب نہيں ملا۔ یوکرین کےبحران پر کنٹرول پانے کے لئے آخری بین الاقوامی کوشش کے دوہفتے بعد جو مینسک سمجھوتے پر دستخط کی صورت میں سامنے آئی، اب نسبتا بہتر دنوں کی امید کی جانے لگی ہے- مشرقی یوکرین کے بیشتر علاقوں خاص طور پر دبالسیوف شہر میں خونریزجھڑپوں کے خاتمے کے بعد یورپ کی سلامتی و تعاون کی تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ مخالفین اور یوکرنی فوج کے درمیان جنگ بندی کا نفاذ، مشرقی یوکرین کے بیشتر علاقوں میں عمل ميں آچکا ہے۔ تاہم یورپ کی سلامتی و تعاون کی تنظیم کے موجودہ سربراہ ایویکا داسیس نےکہا ہے کہ جنگ بندی کے قیام کے باوجود کسی وقت بھی دوبارہ جنگ شروع ہوسکتی ہے۔کیونکہ یہ جنگ بندی کافی کمزورمانی جارہی ہے.

.......

/169